3 اکتوبر، 2026، 11:47 AM

آبنائے ہرمز کے ضوابط کی خلاف ورزی پر متحدہ عرب امارات کے تین ٹینکر حملے زد میں آگئے

آبنائے ہرمز کے ضوابط کی خلاف ورزی پر متحدہ عرب امارات کے تین ٹینکر حملے زد میں آگئے

خلیج فارس اتھارٹی کے مطابق حالیہ دنوں آبنائے ہرمز میں ضوابط کی خلاف ورزی پر عرب امارات کے تین ٹینکرز حملے کی زد میں آگئے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی خلیج فارس اتھارٹی نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں آبنائے ہرمز میں زد میں آنے والے متحدہ عرب امارات کے تین ٹینکر پہلے ہی آبنائے کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کی فہرست میں شامل تھے۔

اتھارٹی نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں آبنائے ہرمز میں کئی ٹینکر زد میں آئے ہیں اور ان میں آخری تین جہاز متحدہ عرب امارات کی ملکیت یا اس کے زیر چارٹر تھے۔

اتھارٹی کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ الرویس، سنباد اور مرسین پراسپیریٹی نامی تینوں ٹینکروں نے گزشتہ دو ماہ کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے کی بارہا کوشش کی تھی۔

اتھارٹی نے کہا کہ تینوں جہازوں کے نام PGSA کی تازہ ترین ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ اس فہرست میں ان جہازوں کو شامل کیا جاتا ہے جن کی حیثیت یا آبنائے سے گزرنے کا طریقہ اس اہم آبی گزرگاہ سے محفوظ اور مجاز آمدورفت کے لیے مقرر کردہ ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات میں بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز میں ایک سپر ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس میں آگ بھڑک اٹھی۔

خلیج فارس آبنائے اتھارٹی نے بارہا جہازوں کے مالکان اور چارٹرنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ جہازوں کو غیر مجاز راستوں پر بھیجنے سے جہاز، اس کے مالک، کپتان اور عملے کو مالی اور جانی نقصان کا خطرہ لاحق ہوتا ہے، جبکہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے پر بھی سنگین پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔

اتھارٹی کے مطابق جو چارٹرنگ کمپنیاں جہازوں کو غیر قانونی راستے سے گزرنے پر مجبور کرتی پائی جائیں گی، انہیں بھی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے اور ان سے وابستہ تمام جہازوں کی آبنائے سے آمدورفت محدود کی جا سکتی ہے۔

اس فہرست میں شامل جہازوں کو مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں جرمانہ، حراست یا ضبطی بھی شامل ہے۔

اتھارٹی نے انشورنس کمپنیوں، پی اینڈ آئی کلبز اور جہازوں کی درجہ بندی کرنے والے اداروں کو بھی غیر مطابق جہازوں کو خدمات فراہم کرنے سے خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے جہازوں کے ساتھ مسلسل کاروباری معاملات کے بھی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

News ID 1941832

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha